Maya Khan Show Banned :
بیشتر پروگام ایسے نشر کیئے گئے ہیں جس میں میڈیاکےقانون کی خلاف ورزی کی کی گئ ہے ۔اور جو اخلاقیات کے بھیخلاف ہیں
dating coupleمایا خان نے2011 میں پارکوں میں جا کر
دیکھا کر نوجوانوں کی زندگی خطرے میں ڈالی نوجوانوں کی پرائیویسی میڈیا پر دیکھائی۔کسی کی پرسنل زندگی میں اس طرح دخل دینا بھی میڈیاکی اخلاقیات کے خلاف ہےانھوں نے پارکز میں جاکر یہ بھی پوچھا کے اپنے نکاح نامے دکھائیں اور چھاپے کے دوران یہ بھی پوچھتی ہوئی نظر آئیں کے آپ کے والدین کو پتہ ہے کے اپ یہاں ہیں ہو سکتا ہے وہ سچ میں شادی شدہ یا منگنی شدہ ہوں اور اگر نہیں بھی تو یہ کسی نے حق نہیں دیا کہ آپ اُن کے اہلِ خانہ کو اشتعال دلا ئیں۔ان پر
Charge sheedبھی لگائی گئی اور ان کو جاب سے بھی ٹرمینیٹ کردیا گیا میڈیا کےاینکرز نے ان پر پابندی لگا دی تھی
بعد ازاں انھوں نے سارے الزام مسترد کر دیے
جِناّت پر مبنی پروگرامز اور مارنگ شوز
اس کے علاوہ ساحر لودھی،شائیستہ لودھی ،ندا یاسر،کے پروگرامز میں من گھرت کہانیاں سُنائی اور دیکھائی گئی ہیں ا
جنات وغیرہ کے پروگرامز کو اس طرح سے ڈرامہ بنا کر پیش کرنا بھی غلط ہے ۔غیر مسلم بھی اس طرح کے پروگرامز دیکھ کر اپنے ذہنوں میں اسلام کےبارے میں غلط تصورات لا رہے ہیں۔
ساحر کا یہ شو تو اب نہیں آرہا مگر جو مارنگ شوز آرہے ہیں اُس میں تزکرہ ہو رہا ہے مارنگ شوز کو بھی بند ہوجانا چاہیے ساحر کے مارنگ شو پر بہت نازیبا حرکات دیکھا ئیں جاتی ہیں اور اب مارنگ شوز میں بہت نزیبا زبان استمعال کی جارہی ہے۔ جو ہماری نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب کررہی ہےخاص کر ندا یاسر اور شائیستہ لودھی ،ساحرلودھی کا
شو آپ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے۔ جو اخلاقیات اور قانون دونوں کے خلاف ہے
Kiran Haroon (M.A Final)
No comments:
Post a Comment