Innovative Writing

(NEWS ALERT) Waseem 'responsible' for May 12 carnage

Tuesday, 25 July 2017

Express Reporter from Grave

 "UNETHICAL  REPORTING OF PAKISTANI MEDIA" by 

ZARA KHALID (M.A FINAL)


                 

آج کل کی دنیا میں صحافت کو ایک بہت ہی منفرد مقام حاصل ہے۔ پہلے کے زمانے میں اس شعبے کو اتنی اہمیت حاصل نہیں تھی جتنی آج ہے ۔صحافت کے زریعے ہی کسی ملک کی قوم کو باشعور بنایا جاسکتا ہے ۔ پاکستان جیسے ملک میں صحافت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اس کی مثال اس طرح سے دی جاسکتی ہے کہ میڈیا پر چلنے والی کوئ بھی خبر بہت جلد لوگوں کی زبان پر عام ہوجاتی ہے اس لیے میڈیا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذمہ دارانہ صحافت کرے مگر بدقسمتی سے ہمارا میڈیا اپنا کردار بہتر طریقے سے ادا نہیں کررہا ہے ، المیہ یہ ہے کہ تمام نیوز چینلز بریکنگ نیوز کی دوڑ میں لگے ہوۓ ہیں ، ایک دوسرے سے زیادہ ٹی-آر-پی حاصل کرنا ان کا مقصد بن کر رہ گیا ہے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے یہ چینلز کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ اپنی اخلاقیات کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں اس کی مثال ایکسپریس نیوز کے رپورٹر کی عبدلستار ایدھی کی قبر میں لیٹ کر یعنی قبر میں سے رپورٹنگ کرنا ہے جو کہ انتہائ غلط
تھا یہ نہایت ہی غیر اخلاقی حرکت تھی کہ کسی کی قبر میں لیٹ کر رپورٹنگ کی جارہی تھی۔    



مندرجہ بالا تصویر ٹویٹرپر رات بھر میں وائرل ہوگئ اس تصویر پر یہ متن درج تھا کہ  "کراچی: انسانیت کے خادم عبدلستار ایدھی کی آخری آرام گاہ کے اندر."۔   سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے رپورٹر کی مذمت کی اور اس طرح کی بےتکی رپورٹنگ کے پیچھے اخلاقیات کا سوال کیا ۔ نہ صرف عام عوام بلکہ دیگر میڈیا تنظیموں کے صحافیوں نےبھی رپوٹر  ، کیمرہ مین اور ڈائریکٹر نیوز کوتنقید کا نشانہ بنا یا کہ محض درجہ بندی حاصل کرنے کے لئے اس طرح کی رپورٹنگ کی گئ ۔  بہت ساری شکایات وصول ہونے کے بعد ایکسپریس نیوز کے مالک سلطان لاکھانی اور چینل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیوذ فہہد حسین کو "شرمناک" رپورٹ پیش کرنے پر معافی مانگنی پڑی ۔ 


ZARA KHALID (M.A FINAL)


Sunday, 23 July 2017

VIOLATION OF MEDIA ETHICS IN PAKISTAN Its 20th century. In this era media is independant as compared to past. In past we struggled for freedom of speech, for this reason so many journalists were arrested and many press clubs were sealed, at last Pakistan got freedom of speech but we use freedom of media in a very wrong way. In daily life, we watch the news and reports that shouldn't broadcast on national TV. Such as Qandeel Baloch which was model by profession. She was brutualy murdered by her brother last year. According to media it was honour killing, as we know that she was popular for vulgarity. She took pictures with islamic scholar mufti Abdul Qawi and tried to build the negative impact of molvis and Islam across the world. Those pictures were viral on social media. Even, we saw those pictures in breaking news. After her murder we shouldn't raise this sensitive topic but its strange that there is a movie about her life named "BAAGHI". Famous Pakistani actress Saba Qamar will play the role of Qandeel in this feature film. I can't understand why we give so importance to that girl and represent her as a role model..




  -Benish Pervez
M.A Final

Media Laws And Ethics

Maya Khan Show Banned :

  بیشتر پروگام ایسے نشر کیئے گئے ہیں جس میں میڈیاکےقانون کی خلاف ورزی کی کی گئ ہے ۔اور جو اخلاقیات کے بھی
خلاف ہیں

dating coupleمایا خان نے2011 میں پارکوں میں جا کر  
دیکھا کر نوجوانوں کی زندگی خطرے میں ڈالی نوجوانوں  کی پرائیویسی میڈیا پر دیکھائی۔کسی کی پرسنل زندگی میں اس طرح دخل دینا بھی میڈیاکی اخلاقیات کے خلاف ہےانھوں نے پارکز میں جاکر یہ بھی پوچھا کے اپنے نکاح نامے دکھائیں اور چھاپے کے دوران یہ بھی پوچھتی ہوئی نظر آئیں  کے آپ کے والدین کو پتہ ہے کے اپ یہاں ہیں ہو سکتا ہے وہ سچ میں شادی شدہ یا منگنی شدہ ہوں اور اگر نہیں بھی تو یہ کسی نے حق نہیں دیا کہ آپ اُن کے اہلِ خانہ کو اشتعال دلا ئیں۔ان پر
Charge sheed
بھی لگائی گئی اور ان کو جاب سے بھی ٹرمینیٹ کردیا گیا میڈیا کےاینکرز نے ان پر پابندی لگا دی تھی
 بعد ازاں انھوں نے سارے الزام مسترد کر دیے

جِناّت  پر  مبنی  پروگرامز اور مارنگ شوز


اس کے علاوہ ساحر لودھی،شائیستہ لودھی ،ندا یاسر،کے پروگرامز میں من گھرت کہانیاں سُنائی اور دیکھائی گئی ہیں  ا
جنات وغیرہ کے پروگرامز کو اس طرح سے ڈرامہ بنا کر پیش کرنا بھی غلط ہے ۔غیر مسلم بھی اس طرح کے پروگرامز دیکھ کر اپنے ذہنوں میں اسلام کےبارے میں غلط تصورات لا رہے ہیں۔
ساحر کا یہ شو تو اب نہیں آرہا مگر جو مارنگ شوز آرہے ہیں اُس میں تزکرہ ہو رہا ہے  مارنگ شوز کو بھی بند ہوجانا چاہیے ساحر کے مارنگ شو پر بہت نازیبا حرکات دیکھا ئیں جاتی ہیں اور اب مارنگ شوز میں بہت نزیبا زبان استمعال کی جارہی ہے۔ جو ہماری نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب کررہی ہےخاص کر ندا یاسر اور شائیستہ لودھی ،ساحرلودھی کا
شو آپ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے۔ جو اخلاقیات اور قانون دونوں کے خلاف ہے

Kiran Haroon (M.A Final)